حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، استاد محسن قرائتی نے ایک سبق آموز واقعہ کے ذریعہ ضائع اور فنا ہونے والی اور کارآمد چیزوں کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے زندگی میں انتخاب کی حکمت پر گفتگو کی ہے۔
انہوں نے مکہ مکرمہ سے ایک غیر معمولی سوغات خریدنے کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "زندگی کے تمام وسائل کے انتخاب میں، خواہ وہ سماجی اور تربیتی امور سے متعلق ہوں، ان کی «کارکردگی» اور «پائیداری» کو مدنظر رکھنا ضروری ہے"۔
انہوں نے کہا: ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ سے واپس آ رہا تھا۔ ہوائی اڈے پر کسی نے پوچھا: «حاجی آقا! آپ نے کیا سوغات خریدی ہے؟» میں نے جواب دیا: «ایک پیچ کس کا ڈبہ۔» ایک ایسا ڈبہ جس کی لمبائی چوڑائی تقریباً ایک ایک بالشت تھی اور اس میں مختلف قسم کے پیچ کس موجود تھے۔ اس نے کہا: "یہ تو مکہ جا کر واپس لایا ہوا لوہا ہے، آپ مکہ سے استعمال شدہ لوہا لے آئے ہیں؟"
جواب دیا: "میں نے سوچا کہ آخر کیا چیز خریدوں؟ جو بھی خریدوں گا، یا خراب ہوجائے گی، یا گل سڑ جائے گی، یا چوری ہوجائے گی یا ممکن ہے اس کا غلط استعمال ہو۔ لیکن "پیچ کس" ایسا وسیلہ ہے جس سے بہت سے کام انجام دیے جا سکتے ہیں۔ یہ صحرا، بیابان، شہر اور دیہات ہر جگہ کام آتا ہے، نہ سڑتا ہے اور نہ ہی آسانی سے ضائع ہوتا ہے"۔
لوگ مجھ پر ہنسے، لیکن بعد میں جب وہی مجھ سے ملے تو کہا: "حاجی آقا! آپ جو سوغات لائے تھے، وہ بہت سی جگہوں پر ہمارے کام آئی۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔"
استاد قرائتی نے مزید کہا: جب آپ اپنے چہرے پر پانی ڈالتے اور چہرہ دھوتے ہوئے وضو کی نیت بھی کرلیں تو چہرہ ٹھنڈا ہونے کے ساتھ وضو بھی حاصل ہوجاتا ہے اور آپ کا عمل بہترین عمل بن جاتا ہے۔
اسی طرح جب کسی کو سلام کریں تو ایسے شخص کو سلام کریں جس میں کمال و شرف زیادہ ہو، اگر کسی کو قرض دینا ہو تو ایسے شخص کو قرض دیں جس کی ضرورت زیادہ اہم ہو۔
انہوں نے شریکِِ حیات کے انتخاب کی مثال دیتے ہوئے کہا: جب ہم اپنے بچوں کے لیے داماد یا بہو کا انتخاب کرنے جائیں تو ہماری نظر ایسے شریکِِ حیات کے انتخاب پر ہونی چاہیے کہ جس کی نسل سے سلمان فارسی اور ابوذر جیسے کردار پیدا ہوں۔ اس طرح ہمارا عمل بھی بہترین عمل بن جائے گا۔









آپ کا تبصرہ